Muhammad Anwar Progress after Mini MBA and Consulting

پیس تھرو پروسپریٹی نے دو ہزار چودہ میں کراچی میں اپنا کام شروع کیا مگر ثمرات اب تک سامنے آرہے ہیں۔ اپنے پہلے پراجیکٹ میں پیس تھرو پروسپریٹی نے دو سو چودہ لوگوں کو منی ایم بی اے کی تعلیم دی اور ان کے ساتھ کوچنگ اور کنسلٹنگ کی۔ ان دوسو چودہ لوگوں میں کئی افراد نے اپنے کاروبار کو بڑھاکر زمین سے آسمان پر پہنچایا تو کچھ کی ترقی کی رفتار تھوڑی آہستہ رہی ۔ ایسے ہی ایک بنیفیشری محمد انور بھی ہیں جنھوں نے آہستہ آہستہ تعلیم کے اصولوں پر عمل کرکے اپنی دکان کھولنے کا خواب پورا کرلیا ہے۔ منی ایم بی اے کی تعلیم کے وقت محمد انور چنا چاٹ فروخت کرتے تھے انھوں نے پانچ روزہ کلاسز میں دل لگایا اور کوچنگ اینڈ کنسلٹنگ میں بھی ٹیم کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جس کا سب سے بڑا فائدہ خود انھیں ہی پہنچا۔ محمد انور دو ہزار چودہ میں چناچاٹ کی فروخت سے روزانہ ڈیڑھ سو سے دو سو روپے روز کماتے تھے مگر اب انھوں خود اپنی دکان لے کر اس میں مختلف آئٹمز بڑھادیے ہیں انکی یومیہ کمائی اب چھ سو روپے سے لے کر آٹھ سو روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ محمد انور نے پی ٹی پی کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر منی ایم بی کی تعلیم کراچی کے دیگر علاقوں میں بھی دی جائے تو ہزاروں لوگ اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ محمد انور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر پیس تھرو پروپریٹی نے دوبارہ کہیں ٹریننگ کا آغاز کیا تو وہ ضرور اس میں شریک ہوں گے اور اپنے ساتھ کاروباری حضرات کو بھی شرکت کا مشورہ دیں گے۔۔ محمد انور کی ترقی تصویروں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے

1

2

3

4

5

Share your thoughts