11/29/16

Muhammad Anwar Progress after Mini MBA and Consulting

پیس تھرو پروسپریٹی نے دو ہزار چودہ میں کراچی میں اپنا کام شروع کیا مگر ثمرات اب تک سامنے آرہے ہیں۔ اپنے پہلے پراجیکٹ میں پیس تھرو پروسپریٹی نے دو سو چودہ لوگوں کو منی ایم بی اے کی تعلیم دی اور ان کے ساتھ کوچنگ اور کنسلٹنگ کی۔ ان دوسو چودہ لوگوں میں کئی افراد نے اپنے کاروبار کو بڑھاکر زمین سے آسمان پر پہنچایا تو کچھ کی ترقی کی رفتار تھوڑی آہستہ رہی ۔ ایسے ہی ایک بنیفیشری محمد انور بھی ہیں جنھوں نے آہستہ آہستہ تعلیم کے اصولوں پر عمل کرکے اپنی دکان کھولنے کا خواب پورا کرلیا ہے۔ منی ایم بی اے کی تعلیم کے وقت محمد انور چنا چاٹ فروخت کرتے تھے انھوں نے پانچ روزہ کلاسز میں دل لگایا اور کوچنگ اینڈ کنسلٹنگ میں بھی ٹیم کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جس کا سب سے بڑا فائدہ خود انھیں ہی پہنچا۔ محمد انور دو ہزار چودہ میں چناچاٹ کی فروخت سے روزانہ ڈیڑھ سو سے دو سو روپے روز کماتے تھے مگر اب انھوں خود اپنی دکان لے کر اس میں مختلف آئٹمز بڑھادیے ہیں انکی یومیہ کمائی اب چھ سو روپے سے لے کر آٹھ سو روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ محمد انور نے پی ٹی پی کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر منی ایم بی کی تعلیم کراچی کے دیگر علاقوں میں بھی دی جائے تو ہزاروں لوگ اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ محمد انور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر پیس تھرو پروپریٹی نے دوبارہ کہیں ٹریننگ کا آغاز کیا تو وہ ضرور اس میں شریک ہوں گے اور اپنے ساتھ کاروباری حضرات کو بھی شرکت کا مشورہ دیں گے۔۔ محمد انور کی ترقی تصویروں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے

1

2

3

4

5

11/18/16

Another Success of the Social Grievance Helpline

پی ٹی پی سماجی ہیلپ لائن کی ایک اور کامیابی

پیس تھرو پرویسپریٹی کی جانب سے فیلڈ ورک میں منی ایم بی اے اور کوچنگ اینڈ کنسلٹنگ کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل کی ہیلپ لائن پر بھی بھرپور کام جاری ہے۔ پیس تھرو پروپیریٹی ہیلپ لائن پر روزانہ کی بنیاد پر بارہ سے پندرہ کالز موصول ہورہی ہیں لوگ اپنے مختلف مسائل سے ہمیں آگاہ کرتے ہیں اور اگر مسئلہ ہماری دسترس میں ہوتو اسے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے کچھ روز پہلے عبدالحمید نامی شخص کی کال موصول ہوئی جس نے اپنا مسئلہ بے روزگاری بتایا ہم نے پہلے تو اپنے بنیفیشری سے کہہ کر اسے فروٹ کے ٹھیلے پر کام کرنے کا مشورہ دیا مگر عبدالحمید اس پر راضی نہ ہوئے مگر اس کے باوجود ہماری فیلڈ ٹیم نے بھرپور کوشش جاری رکھی کوچنگ اینڈ کنسلٹنگ کے دوران ہماری فیلڈ ٹیم کی بنیفیشری چھوٹے کاروباری شعیب قریشی سے ملاقات ہوئی جنھوں نے ہمارے کام کی بھرپور حمایت کی ۔ ہم نے شعیب قریشی سے عبدالحمید کی بے روزگاری کا ذکر کیا تو وہ اسے اپنی دکان پر نوکری دینے پر راضی ہوگئے ہم نے عبدالحمید کو ساری گفتگو سے آگاہ کیا تو وہ بھی نوکری پر آمادہ ہوگئے اب عبدالحمید خوشی خوشی وہاں نوکری کررہا ہے اور اسے کسی قسم کے مسائل درپیش نہیں ہیں۔ عبدالحمید یومیہ چھ سو روپے دیہاڑی ملتی ہے جس سے اس کا اچھا گزر بسر ہوجاتا ہے۔ پی ٹی پی نے جاب لگنے کے کچھ روز بعد دوبارہ شعیب قریشی کی دکان کا دورہ کیا تو عبدالحمید نے فیلڈ ٹیم کا بے حد شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے کام میں ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ایک انسان کی خدمت پوری انسانیت کی خدمت ہے پی ٹی پی کی ٹیم اس عزم کو لے سوشل ہیلپ لائن پر زور و شور سے کام کررہی ہے اگر آپ کو بھی اپنے علاقے میں کسی قسم کا مسئلہ درپیش ہے تو ہمیں 0800-21789 پر مفت کال کریں

1321

11/4/16

Haji Younis Progress After Mini MBA Training

معاشرے میں تبدیلی کا آغاز ہمیشہ ایک شخص سے ہوتا آپ کسی بھی معاشرے کو یکدم تبدیل نہیں کرسکتے پیس تھرو پروسپریٹی کی بھی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ بتدریج معاشرے میں خوشگوار تبدیلی لائی جائے۔ پیس تھرو پروسپریٹی نے سالوں سے کراچی میں اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دے رہی ہے اور اب اس کے پھل بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں،،، دو ہزار چودہ کے پراجیکٹ میں پی ٹی پی نے دو سو چودہ لوگوں کو ٹریننگ دی جس میں ایک حاجی یونس بھی ہیں جن کا تعلق کورنگی سے ہے اور وہ سموسے پکوڑوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ حاجی یونس کو ہماری ٹیم نے منی ایم بی اے ٹریننگ میں شرکت کی دعوت دی انھوں نے ٹریننگ میں شرکت کی اور پیس تھرو پروسپریٹی کے بتائے گئے تمام اصولوں پر عمل کیا جو آج تک جاری ہے ان اصولوں پر عمل کرکے حاجی یونس نے اپنے کاروبار کو وسیع کرلیا ہے۔ الحمداللہ حاجی یونس نے ایک کیبن سے اب دوسرا کیبن کھول لیا ہے اور اس پر ایک افتخار نامی شخص کو نوکری بھی دے دی ہے حاجی یونس افتخار کو پانچ سو روپے یومیہ دیتا ہے اور کام بڑھ جانے کی صورت میں اپنے بیٹے کو بھی ساتھ رکھ لیتا ہے جو اس وقت ایک اچھے اسکول میں تعلیم حاصل کررہا ہے ۔ ٹریننگ سے پہلے اس کا بچہ صرف مدرسے جایا کرتا تھا۔ پی ٹی پی کی ٹیم کو اس بات پر فخر ہے کہ جو شخص دو ہزار چودہ میں خود پانچ سو روپے یومیہ کماتا تھا آج اس نے پانچ سو روپے پر ایک شخص کو روزگار فراہم کیا ہے۔
img-20161103-wa0060

img-20161103-wa0057

img-20161103-wa0058

img-20161103-wa0059

11/1/16

Coaching and Consulting

پیس تھرو پروسپریٹی کا کراچی میں کام زور و شور سے جاری ہے منی ایم بی اے کی کلاسز میں تعلیم کے بعد اب فیلڈر اسٹاف نے کوچنگ اور کنسلٹنگ کا کام شروع کردیا ہے جس میں چھوٹے کاروباری حضرات کی جانب سے بھرپور دلچسپی دیکھی جارہی ہے۔ جیسا کہ منی ایم بی اے پروگرام میں چھوٹے کاروباری حضرات کو کیش بک کی اہمیت سے آگاہ کیا گیا اس پر عمل کرتے ہوئے اب بہت سے کاروباری حضرات اپنے رجسٹر پر خود کام کررہے ہیں جب کہ تعلیم سے محروم چھوٹے کاروباری حضرات اس ضمن میں اپنی پی ٹی پی کی فیلڈ ٹیم اور اپنے گھر والوں کی مدد سے بچت اور اخراجات کا تخمینہ لگاتے ہیں۔ چھوٹے کاروباری حضرات کا کہنا ہے کہ رجسٹر پر کام کرکے انھیں اپنی اصل بچت اور اخراجات کا اندازہ ہورہا ہے جو پہلے نہیں تھا ..
3

12

07/15/16

Lead Trainer Babar Waseem Views on Mini MBA Training

Lead trainer-Baber Waseem Qureshi from Peace Through prosperity sharing some experiences during the training classes of micro entrepreneurs that is worth reading.
Peace Through Prosperity aims to eliminate poverty and enhance self dependence by providing street hawkers with training, a five day training session named as Mini-MBA followed by coaching and consulting. This course includes all basic and important tools and techniques that are necessary for running a business successfully. I am member of this great cause from 4 years.
I, being lead trainer had a chance to meet many micro entrepreneurs and read their minds. I got many colorful experiences during classes. Reading different thoughts and engaging those different minds to one thought was though tough but I took it as a challenge and did it.
Equipping micro entrepreneurs with knowledge of business means to tell them some of the things that basically they know before but they do not give them importance and some of the tools that they do not know and are new for them. To convince them towards the vital role of such business tools was quite a difficult task.
When these street hawkers take 2 to 3 hours out of their business hours for Mini-MBA class, this means they are putting trust and responsibility on you that these hours of their business will not get wasted.
Sharing of views of street hawkers during the class was a very noticeable and appreciable thing. When people come and talk to you about their problems, you start feeling a part of them. This link that the sharing creates let us know that we have a duty towards the society to contribute positively. As it is said wisely that “If you are not a part of solution then you are a part of problem”
Nothing can hold me back from sharing this that I have learnt many things from the micro entrepreneurs too. Their living, patience, poverty and so makes a person think that how am I contributing towards the society when I am in a position? But my cautious is clear this way.