01/9/17

Quarterly Peace Group Workshop

کراچی میں پیس تھرو پروسپریٹی کا سفر کامیابی سے جاری ہے اس سلسلے میں کراچی پریس کلب میں سات جنوری ہفتے کے روز پیس گروپ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف علاقوں کے چھوٹے کاروباری حضرات نے شرکت کی۔ پیس کانفرنس کا مقصد مختلف علاقوں کے لوگوں کو ایک سائے تلے جمع کرنا اور ان کے درمیان تعلقات کو فروغ دینا تھا ۔ پیس گروپ کانفرنس کے درمیان پیس تھرو پروسپریٹی کے ٹاپ بنیفیشریز نے اپنی کامیابیوں کی کہانیاں دیگر کاروباری حضرات سے شیئر کیں جسے بھرپور پذیرائی ملی، اختتام پر ٹاپ بنیفیشریز میں انعامات بھی تقسیم کیے گئے۔ ویمن ٹرینر نائرا پرویز نے خواتین ایم بی اے کے بارے میں لوگوں کو آگاہی فراہم کی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی کراچی میں خواتین کی ٹریننگ جاری رکھیں گی چاہے اس کے لیے انھیں جہاں بھی جانا پڑے۔۔ معروف صحافی چاند نواب بھی پروگرام میں شرکت کرکے اسے چار چاند لگائے چاند نواب کا کہنا تھا کہ انھوں نے بہت سی این جی اوز دیکھیں جو لوگوں کی مالی مدد کرتی ہیں یہ پہلا ادارہ ہے جو لوگوں کو تعلیم کے زیور سےآراستہ کررہا ہے اس ادارے کی مدد کے لیے ان سے جو ہوسکا وہ کریں گے ۔چیئرمین پیس تھرو پروسپریٹی کبیر احمد شیرازی نے اس موقع پر پروگرام کا تعارف کراتے ہوئے اپنے آئندہ کے پروگرام پر نظر ڈالی اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ آئندہ بھی کراچی میں مرد اور خواتین کاروباری حضرات کی ٹریننگ جاری رکھیں گے۔ پروگرام منیجر بابر وسیم نے سماجی ہیلپ لائن کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور چھوٹے کاروباری حضرات پر زور دیا کہ وہ اپنے مسائل ہماری ہیلپ لائن پر درج کرائیں ہم ان کا حل نکالنےکی بھرپور کوشش کریں گے۔ آخر میں پروگرام منیجر عبدالرشید نے بھی خطاب کیا ان کا کہنا تھا کہ پیس تھرو پروسپریٹی کی کامیابی اور آج کا پروگرام ٹیم کی محنت کا نتیجہ ہے ہم آئندہ بھی اسی محنت کے ذریعے لوگوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرتے رہیں گے۔

file024321file0182file0095file0087file0037file0012

12/20/16

PTP Organizes a Successful Combine Group Workshop in Bilal Colony

پیس تھرو پروسپریٹی کے تحت بلال کالونی میں مشترکہ گروپ ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا جس میں بلال کالونی اور بسمہ اللہ اسٹاپ کے چھوٹے کاروباری حضرات نے شرکت کی۔۔ مشترکہ گروپ ورکشاپ کے انعقاد کا مقصد دونوں علاقوں کے چھوٹے کاروباری حضرات کے درمیان روابطہ بڑھانا اور کاروبار کو فروغ دینا تھا۔ گروپ ورکشاپ میں اس بات کا بھی جائزہ لیا گیا کہ کیا چھوٹے کاروباری حضرات منی ایم بی اے میں سکھائے گئے اصولوں پر عمل درآمد کررہے ہیں؟ِ اور اگر نہیں کررہے تو کیوں نہیں کررہے؟ مگر الحمد اللہ زیادہ تر افراد پیس تھرو پروسپریٹی کے بتائے گئے اصولوں پر عمل درآمد کررہے ہیں اور اس سے بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں ۔ گروپ ورکشاپ میں کاروباری حضرات کو سماجی ہیلپ لائن کی اہمیت سے متعلق بھی آگاہی دی گئی اور چھوٹے کاروباری حضرات نے یقین دلایا کہ وہ اپنے مسائل اب سماجی ہیلپ لائن پر ضرور درج کرائیں گے پراجیکٹ منیجر عبدالرشید اور ٹرینر بابر وسیم کی سربراہی میں ہونے والی گروپ ورکشاپ میں دونوں علاقوں سے تقریبا اڑتالیس چھوٹے کاروباری حضرات نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے علاقے کی معروف شخصیت منور سولنگی نے کہا کہ پیس تھرو پروپسریٹی کے کام دیکھ کر دل سے خوشی ہوتی ہے وہ جتنی مرتبہ بھی ہمارے علاقے میں آئیں گے ہم کندھے سے کندھا ملاکر ان کے ساتھ چلیں گے چھوٹے کاروباری حضرات بھی ان کے ہاتھ مضبوط کریں۔ پروگرام کے اختتام پر دو بہترین بنیفیشریز روشن علی اور عبدالرحمان کو خصوصی طور پر انعام سے نوازہ گیا ۔۔

1

2

3

4

5

11/29/16

Muhammad Anwar Progress after Mini MBA and Consulting

پیس تھرو پروسپریٹی نے دو ہزار چودہ میں کراچی میں اپنا کام شروع کیا مگر ثمرات اب تک سامنے آرہے ہیں۔ اپنے پہلے پراجیکٹ میں پیس تھرو پروسپریٹی نے دو سو چودہ لوگوں کو منی ایم بی اے کی تعلیم دی اور ان کے ساتھ کوچنگ اور کنسلٹنگ کی۔ ان دوسو چودہ لوگوں میں کئی افراد نے اپنے کاروبار کو بڑھاکر زمین سے آسمان پر پہنچایا تو کچھ کی ترقی کی رفتار تھوڑی آہستہ رہی ۔ ایسے ہی ایک بنیفیشری محمد انور بھی ہیں جنھوں نے آہستہ آہستہ تعلیم کے اصولوں پر عمل کرکے اپنی دکان کھولنے کا خواب پورا کرلیا ہے۔ منی ایم بی اے کی تعلیم کے وقت محمد انور چنا چاٹ فروخت کرتے تھے انھوں نے پانچ روزہ کلاسز میں دل لگایا اور کوچنگ اینڈ کنسلٹنگ میں بھی ٹیم کے ساتھ بھرپور تعاون کیا جس کا سب سے بڑا فائدہ خود انھیں ہی پہنچا۔ محمد انور دو ہزار چودہ میں چناچاٹ کی فروخت سے روزانہ ڈیڑھ سو سے دو سو روپے روز کماتے تھے مگر اب انھوں خود اپنی دکان لے کر اس میں مختلف آئٹمز بڑھادیے ہیں انکی یومیہ کمائی اب چھ سو روپے سے لے کر آٹھ سو روپے تک پہنچ چکی ہے ۔ محمد انور نے پی ٹی پی کی ٹیم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اگر منی ایم بی کی تعلیم کراچی کے دیگر علاقوں میں بھی دی جائے تو ہزاروں لوگ اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔ محمد انور نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر پیس تھرو پروپریٹی نے دوبارہ کہیں ٹریننگ کا آغاز کیا تو وہ ضرور اس میں شریک ہوں گے اور اپنے ساتھ کاروباری حضرات کو بھی شرکت کا مشورہ دیں گے۔۔ محمد انور کی ترقی تصویروں میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے

1

2

3

4

5

11/18/16

Another Success of the Social Grievance Helpline

پی ٹی پی سماجی ہیلپ لائن کی ایک اور کامیابی

پیس تھرو پرویسپریٹی کی جانب سے فیلڈ ورک میں منی ایم بی اے اور کوچنگ اینڈ کنسلٹنگ کے ساتھ ساتھ سماجی مسائل کی ہیلپ لائن پر بھی بھرپور کام جاری ہے۔ پیس تھرو پروپیریٹی ہیلپ لائن پر روزانہ کی بنیاد پر بارہ سے پندرہ کالز موصول ہورہی ہیں لوگ اپنے مختلف مسائل سے ہمیں آگاہ کرتے ہیں اور اگر مسئلہ ہماری دسترس میں ہوتو اسے حل کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے کچھ روز پہلے عبدالحمید نامی شخص کی کال موصول ہوئی جس نے اپنا مسئلہ بے روزگاری بتایا ہم نے پہلے تو اپنے بنیفیشری سے کہہ کر اسے فروٹ کے ٹھیلے پر کام کرنے کا مشورہ دیا مگر عبدالحمید اس پر راضی نہ ہوئے مگر اس کے باوجود ہماری فیلڈ ٹیم نے بھرپور کوشش جاری رکھی کوچنگ اینڈ کنسلٹنگ کے دوران ہماری فیلڈ ٹیم کی بنیفیشری چھوٹے کاروباری شعیب قریشی سے ملاقات ہوئی جنھوں نے ہمارے کام کی بھرپور حمایت کی ۔ ہم نے شعیب قریشی سے عبدالحمید کی بے روزگاری کا ذکر کیا تو وہ اسے اپنی دکان پر نوکری دینے پر راضی ہوگئے ہم نے عبدالحمید کو ساری گفتگو سے آگاہ کیا تو وہ بھی نوکری پر آمادہ ہوگئے اب عبدالحمید خوشی خوشی وہاں نوکری کررہا ہے اور اسے کسی قسم کے مسائل درپیش نہیں ہیں۔ عبدالحمید یومیہ چھ سو روپے دیہاڑی ملتی ہے جس سے اس کا اچھا گزر بسر ہوجاتا ہے۔ پی ٹی پی نے جاب لگنے کے کچھ روز بعد دوبارہ شعیب قریشی کی دکان کا دورہ کیا تو عبدالحمید نے فیلڈ ٹیم کا بے حد شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے کام میں ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ ایک انسان کی خدمت پوری انسانیت کی خدمت ہے پی ٹی پی کی ٹیم اس عزم کو لے سوشل ہیلپ لائن پر زور و شور سے کام کررہی ہے اگر آپ کو بھی اپنے علاقے میں کسی قسم کا مسئلہ درپیش ہے تو ہمیں 0800-21789 پر مفت کال کریں

1321

11/4/16

Haji Younis Progress After Mini MBA Training

معاشرے میں تبدیلی کا آغاز ہمیشہ ایک شخص سے ہوتا آپ کسی بھی معاشرے کو یکدم تبدیل نہیں کرسکتے پیس تھرو پروسپریٹی کی بھی ہمیشہ یہی کوشش رہی کہ بتدریج معاشرے میں خوشگوار تبدیلی لائی جائے۔ پیس تھرو پروسپریٹی نے سالوں سے کراچی میں اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دے رہی ہے اور اب اس کے پھل بھی سامنے آنا شروع ہوگئے ہیں،،، دو ہزار چودہ کے پراجیکٹ میں پی ٹی پی نے دو سو چودہ لوگوں کو ٹریننگ دی جس میں ایک حاجی یونس بھی ہیں جن کا تعلق کورنگی سے ہے اور وہ سموسے پکوڑوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ حاجی یونس کو ہماری ٹیم نے منی ایم بی اے ٹریننگ میں شرکت کی دعوت دی انھوں نے ٹریننگ میں شرکت کی اور پیس تھرو پروسپریٹی کے بتائے گئے تمام اصولوں پر عمل کیا جو آج تک جاری ہے ان اصولوں پر عمل کرکے حاجی یونس نے اپنے کاروبار کو وسیع کرلیا ہے۔ الحمداللہ حاجی یونس نے ایک کیبن سے اب دوسرا کیبن کھول لیا ہے اور اس پر ایک افتخار نامی شخص کو نوکری بھی دے دی ہے حاجی یونس افتخار کو پانچ سو روپے یومیہ دیتا ہے اور کام بڑھ جانے کی صورت میں اپنے بیٹے کو بھی ساتھ رکھ لیتا ہے جو اس وقت ایک اچھے اسکول میں تعلیم حاصل کررہا ہے ۔ ٹریننگ سے پہلے اس کا بچہ صرف مدرسے جایا کرتا تھا۔ پی ٹی پی کی ٹیم کو اس بات پر فخر ہے کہ جو شخص دو ہزار چودہ میں خود پانچ سو روپے یومیہ کماتا تھا آج اس نے پانچ سو روپے پر ایک شخص کو روزگار فراہم کیا ہے۔
img-20161103-wa0060

img-20161103-wa0057

img-20161103-wa0058

img-20161103-wa0059